درد کا جدائی جدائی کا یہ غم بھی عجیب ہوتا ہے،
دل پاس ہو پھر بھی، کوئی قریب نہیں ہوتا ہے۔
آنکھوں میں آج بھی، وہ یادیں رہتی ہیں،
خاموش راتوں میں، دل سے باتیں کہتی ہیں۔
فاصلوں نے ہم کو بہت کچھ سکھایا،
کون اپنا ہے، وقت نے یہ بتایا۔
جو کل تک ہمارے ساتھ ہنستے تھے،
آج ان کی یادوں کے سائے بستے ہیں۔
کچھ لوگ زندگی میں آ کر چلے جاتے ہیں،
مگر دل میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔
رات کی خاموشی میں جب یاد آتے ہیں،
ہم مسکراتے ہیں، پھر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
ملنے کی امید ابھی دل میں باقی ہے،
ہر جدائی کے بعد، ملنے کی باری ہے۔
💬 মন্তব্য করুন
আপনার মতামত জানান
এখনো কোনো মন্তব্য নেই
প্রথম মন্তব্য করুন!